30 مارچ 2013 - 19:30

ميانمار کے مختلف علاقوں خاص طور پر يانگون ميں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں ميں شدت اور مسلمانوں کے قتل عام کا دائرہ پھيل جانے کے بعد سرانجام ميانمار کي حکومت حرکت ميں آگئي ہے -

ابنا: ميانمار کے صدر تين سين نے ايک دس رکني خصوصي کميٹي تشکيل دي ہے جو ملک کے مختلف علاقوں ميں ہونے والے منصوبہ بند فسادات پر قابو پانے کي کوشش کرے گي-اس کميٹي ميں ملک کے وزير داخلہ ، نائب وزير داخلہ ، صدارتي دفتر کے سربراہ ، ميانمار کے نائب پوليس سربراہ اور کئي ديگر سرکاري عہديدار شامل ہيں –اس کميٹي کي ذمہ داري سيکورٹي اداروں اور مقامي انتظاميہ کے درميان ہم آہنگي پيدا کرنا ہے تا کہ فسادات پر قابو پايا جاسکے-پچھلے تقريبا دوہفتے سے ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگيا ہے جس کے نتيجے ميں اب تک دسيوں روہنگيا مسلمان مارے جاچکے ہيں، جبکہ بڑي تعداد ميں مسلمانوں کے گھروں دوکانوں  اور مساجد کو آگ لگادي گئي ہے -ميانمار کے سرکاري ٹيلي ويژن چينل نے اعلان کيا ہے کہ دارالحکومت يانگون کے شمال ميں باگو کے علاقے ميں بھي انتہا پسند بدھسٹوں نے مسلمانوں کے مذہبي مقامات مساجد اور گھروں کونذر آتش کرنے کے ساتھ ساتھ چاليس سے زائد مسلمانوں کو قتل کرديا ہے جبکہ ہزاروں کي تعداد ميں ميانمار کے مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے ہيں -حتي يہاں تک کہا جارہا ہے کہ دارالحکومت يانگون اور اس کے مضافاتي علاقوں ميں انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں کے خوف سے مسلمان  گھرانے اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لے رہے ہيں....../169